17

زیادہ خربوزے کھانے کے کیا نقصانات ہیں؟ کھیرا اور خربوزہ کھاتے وقت پانی پینا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے ؟

موسم انگڑائی لے رہا ہے ہستہ ہستہ ہرطرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے موسم کی تبدیلی کے ساتھ گرمی کا احساس بھی بڑ ھ رہا ہے اور یہ گرمی کا احساس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتا جائے گا جس طرح تمام کائنات کا نظام اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی طرح موسم کا دارومدار بھی بے شک اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ جب تک اللہ نہیں چاہتا گرمی کی شدت میں کمی نہیں آسکتی مگر اللہ نے اسی گرمی کی شددت سے بچنے کے لئے ہمیں ایسی قدرتی نعمتیں عطاکی ہیں جن کے بے شمار فوائد ہیں اور کچھ نقصانات بھی ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے پھلوں، سبزیوں جڑی بوٹیوں میں فوائد رکھے ہیں۔ خربوزہ بھی ان میں شامل ہے۔ خربوزے میں گلوکوز، پوٹاشیم، تانبا، وٹامن اے، بی شامل ہیں۔ اس کے کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے اور جسم سے فاسد مادے خارج ہو جاتے ہیں یرقان، پتھری، بندش پیشاب جیسے امراض میں مفید ہے لیکن خربوز ے کے کچھ نقصانات بھی ہیں دوستو اب خربوزے کا موسم ہے جو کہ گرم موسم کی شدت دور بھگانے کے لیے فائدہ مند پھل ہے۔رسیلا اور مزیدار ہونے کے ساتھ ساتھ یہ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند بھی ہے جس میں اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز اور دیگر اجزا موجود ہیں، جن کی بدولت بینائی بہتر ہوتی ہے، بلڈ پریشر مستحکم رہتا ہے، دورانِ خون بڑھتا ہے۔آسان الفاظ میں غذا میں اس کا اضافہ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔تاہم کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہے، تو اس اصول کا اطلاق خربوزے پر بھی ہوتا ہے ایک ساتھ بہت زیادہ خربوزے کھانا صحت کے لیے مضر ثابت ہوسکتا ہے۔
شوگر لیول بڑھنے کا امکان
اگر ذیابیطس کے شکار نہیں مگر اس کی علامات موجود ہیں تو زیادہ مقدار میں خربوزے کھانا نقصان دہ ہوسکتا ہے، اس میں مٹھاس کافی زیادہ ہوتی ہے جو بلڈ شوگر لیول بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اسے روز کھانے کے لیے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
آنتوں پر اثرات
ویسے زیادہ خربوزے کھانے سے آنتوں پر اثرات مرتب نہیں ہوتے، تاہم اس کے بعد پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ پانی پینے سے صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
میٹابولزم متاثر ہونا
رات کے وقت خربوزے کھانے سے گریز کرنا چاہیے یا زیادہ نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ اس وقت اس پھل میں موجود مٹھاس کو میٹابولزم کے لیے جلانا کافی مشکل ہوسکتا ہے۔ رات کو نظام ہاضمہ بھی معمول کے مقابلے میں کافی سست ہوتا ہے۔
معدہ متاثر ہوسکتا ہے
یہ صحت کے لیے یقیناً فائدہ مند ہے مگر اس کی بہت زیادہ مقدار ہیضے کا باعث بن سکتی ہے، اس میں مٹھاس کا ایک جز اعتدال میں فائدہ مند ہوتا ہے تاہم زیادہ مقدار کی صورت میں یہ پیٹ خراب ہونے اور گیس جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق کبھی بھی خالی پیٹ خربوزہ نہیں کھانا چاہیے اور خربوزے اور کھیرا کھانے کے بعد پانی بالکل نہیں پینا چاہئے اس سے جسم پر اچھے اثرات نہیں ہوتے بلکہ ہیضہ ہو جاتا ہے۔ خربوزے میں پانی موجود ہوتا ہے ۔ خربوزہ کھاتے ہوئے آپ اتنی احتیاط ضرور کریں کہ بھرے ہوئے پیٹ میں زبردستی خربوزہ نہ ٹھونسیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں