19

پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام : گورنمنٹ نظام میں نئے پاکستان میں کیا تبدیلی ہونے جا رہی ہے؟

تحریکِ انصاف نے مزکر اور پنجاب میں حکومت سنبھالتے ہی پنجاب کے بلدیاتی نظام کو تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد 2015ء کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے مقامی نمائندے فارغ ہو جائیں گےاور موجودہ بلدیاتی اداروں کی بھی فوری تحلیل کا امکان ہے۔ نئے بلدیاتی انتخابات بھی اسی سال ستمبر تا اکتوبر میں متوقع ہیں۔
نئے بلدیاتی نظام کے تحت تحصیل اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹس قائم کی جائیں گی۔ شہری علاقوں میں ٹاؤن کونسل اور دیہی علاقوں میں ڈسٹرکٹ کونسل ختم کرکے دیہی علاقوں میں ویلیج کونسل اور شہری علاقوں میں نیبرہُڈ (ہمسایہ) کونسل بنائی جائیں گی۔
تحصیل اور سٹی ڈسٹرکٹ حکومتوں میں میئرز کے انتخابات براہ راست جماعتی بنیادوں پر ہوں گے تاہم پنجاب ویلیج کونسل اور نیبرہڈ کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں گے۔
سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، واسا، مختلف ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اور پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) سمیت اس طرح کے دیگر مقامی ادارے بلدیاتی حکومتوں کے ماتحت ہوں گے۔
تاہم پولیس بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت نہیں ہو گی۔
نیبر ہڈ کونسل اور ویلیج کونسل چھ چھ ارکان پر مشتمل ہوگی جن کے سربراہان کو چیئرمین کہا جائے گا۔ ان کونسلز کے تین ارکان کو براہ راست منتخب کرنے اور تین اسپیشل سیٹیں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تحریکِ انصاف نے مزکر اور پنجاب میں حکومت سنبھالتے ہی پنجاب کے بلدیاتی نظام کو تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد 2015ء کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے مقامی نمائندوں نے مختلف شہروں میں احتجاج بھی ریکارڈ کروائے تھے۔
تاہم حکومت نے سابق وزیر بلدیات پنجاب علیم خان کی سربراہی میں نئے بلدیاتی نظام پر کام جاری رکھاتھا نئے بلدیاتی نظام کو انتہائی عرق ریزی سے تیار کیا گیا ہے، اس میں بلدیاتی نظام کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ تمام ترقیاتی کام بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے ہوں گے
پنجاب میں پہلے سے رائج بلدیاتی نظام فرسودہ ہے جس کے تحت مقامی نمائندوں کو اختیارات دینے کی بجائے تمام اختیارات پنجاب حکومت نے اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان برطانوی بلدیاتی نظام سے خاصے متاثر ہیں تاہم انہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف والے ضلعی انتظامات کو بھی کبھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔شاید یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے مجوزہ بلدیاتی نظام میں بھی مشرف کے بلدیاتی نظام کی طرح ضلعی سطح پر مئیرز کے انتخابات کو براہِ راست رکھا گیا ہے۔ حکومتی جماعت کے ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف نئے نظام کی اسمبلی سے منظوری کے فوری بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جلد دوبارہ بلدیاتی انتخابات کروانا چاہتی ہے۔
کل ایک روزہ دورے پر وزیر اعظم عمران خان لاہور میں آئے ہوئے تھے ۔انہوں نے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں نئے بلدیاتی نظام کے مسودے کی منظوری دیدی۔نیا بلدیاتی نظام جلد ہی پنجاب کابینہ اور بعد ازاں پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
وزیر قانون پنجاب راجا بشارت کا کہنا تھا کہ دیہاتوں میں پنچایتی اور شہروں میں نیبر ہوڈ کے نام سے نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ایک سال کے اندر پنچایت، نیبر ہوڈ اور میٹروپولیٹن کے نئے انتخابات ہوں گے۔ نئے نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات جماعتوں کی سطح پر ہوں گے۔ دیہاتوں میں 22 ہزار پنچائیتیں ہونگی جبکہ 182 شہروں میں میونسپل کمیٹی ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے نفاذ سے موجودہ بلدیاتی ادارے تحلیل ہو جائیں گے اور مقامی آبادی اپنے نمائندے منتخب کرے گی۔ ہمارا مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہے، ہم اقتدار کو صیح معنوں میں نچلی سطح پر منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ نئے بلدیاتی نظام میں عوام کا پیسہ عوام پر ہی لگے گا اور نچلی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔ بجٹ سیشن سے پہلے ہم نیا بلدیاتی نظام نافذ کر دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں