55

پاکستان کرکٹ ٹیم کی فاتح کون سی ٹیم رہی؟ بہترین کارکردگی کس بلے باز نے دکھائی

پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں ورلڈکپ 2019 کی تیاروں میں مصروف ہے ،اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کپ کا دو اپریل سے 12 تک انعقاد کروایا ۔پاکستان کپ میں 5 ٹیموں نے شرکت کی جن میں سندھ، پنجاب، بلوچستان، کے پی اور فیڈرل ایریاز شامل تھیں ۔ ایونٹ کے تمام میچز ڈے اینڈ نائٹ ہوئے ، جیتنے والی ٹیم کو 20 لاکھ روپے ا نعام دیا گیا۔ایونٹ کے تمام میچزز کا انعقاد راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کیا گیا۔
پاکستان کپ 2019کا ٹائٹل خیبر پختونخواکی ٹیم نے جیت لیا ،اس نے بلوچستان کی ٹیم کوایک سنسنی خیزمیچ میں 9رنزسے شکست دیکر یہ اعزاز حاصل کیا۔پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد ہونیوالے اس ایونٹ کا فائنل بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔خیبر پختونخواہ کی ٹیم کے کپتان سلیمان بٹ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ درست ثابت ہوا۔
خیبر پختونخوا کی ٹیم نے مقررہ50اوورز میں 7وکٹوں کے نقصان پر 307رنز بنائے،ان کی پہلی وکٹ تین سکور پر گری جب سلیمان بٹ دو رنز بنا کر آوٹ ہو گئے،عابد علی اور محمد سعد نے دوسری وکٹ کی پارٹنر شپ میں 136رنز بنائے۔عابد علی نے 119گیندوں پر 12چوکوں اور 3چھکوں کی مدد سے132رنز بنائے،محمد سعد نے 51،زوہیب خان نے 27جبکہ سہیل خان نے آوٹ ہوئے بغیر 45اور وہاب ریاض نے آوٹ ہوئے بغیر22رنز بنائے۔
بلوچستان کی طرف سے علی عمران نے 48رنز کے عوض3،حارث روف نے دو جبکہ عماد بٹ اور عمر خان نے ایک،ایک وکٹ حاصل کی۔خیبر پختونخوا کی ٹیم نے اپنے 100رنز 17.4اوورز میں،200رنز38.1اوورز میں جبکہ 300رنز 49.4اوورز میں مکمل کیئے۔جواب میں بلوچستان کی ٹیم مقررہ 50اوورز میں 9وکٹوں پر298رنز بنا سکی اور 9رنز سے میچ ہار گئی ۔
بلوچستان کی پہلی وکٹ 35رنز پر گری جب ذیشان اشرف16رنز بنا کر آوٹ ہو گئے،اویس ضیاء نے 83رنز،اسد شفیق نے48،فواد عالم نے بھی 48،علی عمران نے 27اور عمر اکمل نے 23رنز بنائے۔خیبر پختونخوا کی طرف سے سہیل خان نے 75رنز کے عوض 3، عمید آصف نے دو،وہاب ریاض،زوہیب خان اور محمد عرفان جونیئر نے ایک،ایک وکٹ حاصل کی۔سہیل خان کو بہترین آل راونڈ کارکردگی پر مین آف دی میچ کے ایوارڈ میں انہیں سونیئر اور25ہزار روپے کیش پرائز سے نوازا گیا۔
بلوچستان کی ٹیم نے اپنے 100رنز15.5اوورز میں جبکہ200رنز33.4اوورز میں مکمل کیئے۔خیبر پختونخوافاتح ٹیم کو ونر ٹرافی اور 20لاکھ روپے کیش پرائز جبکہ بلوچستان کی ٹیم کو رنر اپ ٹرافی اور10لاکھ کیش پرائز سے نوازا گیا۔
پاکستان کپ کے بہترین بیٹسمین کا ایوارڈعمر اکمل کو،بہترین باولر کا ایوارڈوہاب ریاض و عماد بٹ کو جبکہ بہترین آل راونڈر کا ایوارڈ حماد اعظم کو دیا گیا۔انہیں سونیئر اور 25, 25ہزار روپے کیش پرائز دیا گیا۔
پاکستان کپ کے بعد آئی سی سی ورلڈ کپ کے لیے 13 قومی کھلاڑیوں کو فائنل کرلیا گیا،،ذرائع کرکٹ بور ڈکے مطابق محمد حفیظ اور آصف علی میں ٹائی پڑ گئی ہے جبکہ فاسٹ بولر محمد حسنین اور عثمان شنواری میں سے بھی ایک کو چنا جائے گا۔مشن ورلڈ کپ کے لیے 15 میں سے 13 قومی کھلاڑی فائنل کر لئے گئے ہیں تاہم اسکا اعلان ابھی نہیں کیا گیا اوپنرز میں فخر زمان، امام الحق اور نوجوان عابد علی شامل ہیں۔ آل راؤنڈرز میں فہیم اشرف، شاداب خان اور عماد وسیم سکواڈ کا حصہ ہیں۔
مڈل آرڈر میں بابر اعظم، حارث سہیل، شعیب ملک اور کپتان سرفراز احمد کے نام شامل ہیں جبکہ فاسٹ باؤلرز میں حسن علی، محمد عامر اور شاہین آفریدی کو منتخب کر لیا گیا ہے ۔فٹنس ٹیسٹ کے بعد 15 رکنی ٹیم کا اعلان 18 اپریل کو ہوگا۔ عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کو 31 مئی کو ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گی، میگا ایونٹ کا سپر مقابلہ یعنی روایتی حریف پاکستان اور بھارت 15 جون کو مدمقابل ہوں گے۔ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم ورلڈکپ 2019 کے اعزاز کا دفاع کرے گی ۔
ورلڈکپ سے پہلے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی حالیہ ون ڈے سیریز کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی اور ہیڈ کوچ نے چند کھلاڑیوں کو آرام اور چند کھلاڑیوں کو آزمانے کے نام پر استعمال کیا۔جس کے نتجے میں پاکستان ٹیم سریز کے تمام میچ ہار گئی ۔ تاہم کوچ مکی آرتھر اب بھی بضد ہیں کہ کپتان سرفراز احمد سمیت چھ کرکٹرز کو آرام دینے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔
وہ آسٹریلیا سے شکست کھانے والی ٹیم کی جانب سے بننے والی پانچ سنچریوں کے علاوہ نئے فاسٹ بولر محمد حسنین کو ایک بڑی دریافت سمجھتے ہوئے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس تجرباتی سیریز کے نتائج سے کپتان سرفراز احمد پر غیرمعمولی دباؤ نہیں بڑھ گیا کہ انھیں انگلینڈ کے خلاف سب کچھ صفر سے شروع کر کے ایک بکھری ہوئی ٹیم کو دوبارہ سے اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوگا اور ایسا نہ ہو کہ اس کوشش میں انگلینڈ کے خلاف سیریز بھی آسٹریلیا کے خلاف سیریز کا ایکشن ری پلے ثابت ہو۔
اس کی ایک بڑی مثال ہم جنوبی افریقہ کے دورے میں کھیلی گئی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں دیکھ چکے ہیں جس میں سرفراز احمد موجود نہیں تھے اور ایک نئے کپتان کے ساتھ میدان میں اترنے والی پاکستانی ٹیم مسلسل 11 ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے کے بعد پہلی بار شکست سے دوچار ہوئی تھی۔
یہاں یہ سوال سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف جن کھلاڑیوں کو آرام دیا گیا تھا کیا وہ ورلڈ کپ کے لیے خودبخود منتخب سمجھے جائیں گے؟ ان کھلاڑیوں میں کپتان سرفراز احمد، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، بابر اعظم اور فخرزمان پر مشتمل ہو گئی ؟
بظاہر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے لیکن شاداب خان اور شاہین شاہ آفریدی کے بارے میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ پی ایس ایل میں مکمل طور پر فٹ نظر نہیں آئے تھے۔ اب وہ کتنے فٹ ہیں اس کا اندازہ فٹنس ٹیسٹ ہی نہیں بلکہ انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں بھی ہو جائے گا۔
جہاں تک آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا تعلق ہے تو شعیب ملک، جنید خان، محمد عامر، محمد عباس، یاسر شاہ اور فہیم اشرف ایسے کھلاڑی ہیں جن کا سلیکشن آٹو میٹک نہیں کہا جا سکتا ہے۔فہیم اشرف کو دوسرے میچ کے بعد ہی سکواڈ سے دستبردار کرا کے وطن واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔
محمد عباس نے ٹیسٹ کرکٹ میں جو شاندار کارکردگی دکھائی اس کے بعد کچھ لوگوں کا یہ خیال تھا کہ انھیں محدود اوورز میں بھی آزمایا جائے۔ وہ پی ایس ایل میں ملتان سلطانز کی جانب سے صرف تین میچ کھیل پائے۔آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے کریئر کا آغاز کرتے ہوئے انھیں تین میچوں میں کھیلنے کا موقع ملا لیکن وہ صرف ایک وکٹ حاصل کر پائے۔
دوستو عمر اکمل نے کس طرح کوچ مکی آرتھر کو رام کیا ٹیم میں واپسی کے لیے ؟ عمر اکمل نے قوم ٹیم کے کوچ مکی آرتھر گالی دینے کا الزام لگایا تھا ، مکی ارتھر اور عمر اکمل کے درمیان معاملہ کیسے حل ہوا ؟ ان سوالات کی طرف آنے سے پہلے میری آپ سے گزارش ہے کہ ہمارے چینل میڈیا باکس کو ریڈبٹن پر کلک کرکے سبکرائب کریں اور ساتھ بل کے نشان پر کلک کریں تاکہ آپ کو ہماری نئی ویڈیوز ملتی رہیں ، ہماری ویڈیو کو لائک کریں ،شئیر کریں اور کمنٹ سکشن میں کنٹ کر کے ہیں رائے سے ضرور آگا ہ کریں۔
عمراکمل نے پی ایس ایل میں چند ایک اچھی اننگز کھیل کر مکی آرتھر کو دوبارہ اپنے لیے نرم گوشہ اختیار کرنے پر مجبور کیا لیکن آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں وہ جس انداز سے اپنی وکٹ پھینک کر گئے اس نے ان کے ورلڈ کپ میں کھیلنے کے امکان کو نہ ہونے کے برابر کر دیا ہے بلکہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کے ایک اور واقعے کے بعد کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ عمراکمل نے اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی مار دی ہے۔ پہلے ہی بڑی مشکل سے پی سی بی کے سنئیر آفیشل نے عمر اکمل اور قومی کوچ کے معاملات بڑی مشکل سے حل کر وائے تھے۔
عالمی کرکٹ کپ کے مقابلے شروع ہونے میں اب دو ماہ سے بھی کم کا عرصہ رہ گیا ہے اور تیاریاں جوبن پر ہیں۔لیکن جہاں ایک طرف تمام ٹیمیں اپنے سکواڈ تیار کر رہی ہیں اور ورلڈ کپ جیتنے کے لیے پر تول رہی ہیں، جس انعام کی تلاش میں وہ اپنا سفر 30 مئی سے شروع کریں گی، اس وقت وہ انعام یعنی ورلڈ کپ ٹرافی اپنے دورے پر پاکستان پہنچ گئی ہے جہاں اگلے تین روز اسے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں شائقین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ دوسرا موقع ہے جب ورلڈ کپ ٹرافی کو پاکستان کے دورے پر لایا گیا ہے۔ اس سے قبل گذشتہ سال اکتوبر میں بھی ٹرافی کو پاکستان لایا گیا تھا۔اس ٹرافی کو صرف 20 سال ہوئے ہیں جب پہلی بار اسے 1999 میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اسے اتفاق کہیے یا کچھ اور، وہ ورلڈ کپ بھی انگلینڈ میں کھیلا گیا تھا اور اسے پہلی بار آسٹریلیا نے جیتا تھا جب لارڈز میں کھیلے گئے فائنل میں سٹیو واہ کی ٹیم نے پاکستان کو شکست دی تھی۔
لاہورمیں ورلڈ کپ کی چمچماتی ٹرافی کی رونمائی ہوئی۔ مقامی شاپنگ مال میں کرکٹ دیوانے ورلڈ کپ ٹرافی دیکھ کر پرجوش ہو ئے شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ اصل خوشی تب ہوگی جب سرفراز الیون یہ ٹرافی جیت کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان لائے گی۔ خوشیوں کا رنگ جماتی اور شائقین کا لہو گرماتی ورلڈکپ ٹرافی آگلے مرحلے شہر قائد میں رنگ جمائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں