26

بھارت میں الیکشن کون جیتے گا؟؟.مودی سرکار کا مستقبل کیا ہے؟؟؟

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا۔ اسی کے ساتھ مثالی ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہوگیا جس کی رو سے اب بیشتر انتظامی اختیارات الیکشن کمیشن کو حاصل ہوگئے ہیں بھارت میں عام انتخابات سات مرحلوں میں ہوں گے۔ پہلے مرحلے کے لیے پولنگ گیارہ اپریل کو ہوگی جب کہ آخری مرحلے کے لیے انیس مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو ہوگی اور گنتی کا یہ عمل ستائیس مئی تک مکمل کرلیا جائے گا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرر ہی ہے۔
مجموعی طور پر 543 نشستوں کے لیے 29 ریاستوں میں پولنگ ہو گی کسی بھی پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے یعنی حکومت تشکیل دینے کے لیے کم از کم 272نشستیں درکار ہیں۔ نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی یا بی جے پی 2014 ء میں تاریخی کامیابی حاصل کر کے بر سر اقتدار آئی اس کی ایک وجہ مخالف جماعت کانگریس کا لگاتار 10 سالہ اقتدار تھا .حکمرانی کی قدرتی اور نفسیاتی وجہ سے لوگوں نے انہیں ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا تھا اس جنرل الیکشن میں بھی اصل مقابلہ بی جے پی کے نریندر مودی اور اس کی اتحادی پارٹی این ڈی اے (نیشنل ڈیموکریٹک الائنس) اور انڈین نیشنل کانگریس کے راہول گاندھی اور اس کی اتحادی پارٹی یو۔پی۔اے (یونائیٹڈ پراگریسو الائنس) کے درمیان ہو گا۔
11اپریل کو الیکشن کا آغاز آسام، بہار، چھتیس گڑھ، میٹرورام، منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش، اُترپردیش، جموں وکشمیر، مہاراشٹر، ناگالینڈ، تلنگانہ، اندھراپردیش، اُڑیسہ، سکم، تری پورہ، اُترکھنڈ لکشدویپ، جزائرانڈیمان، جزائر نکوبار، مغربی بنگال سے ہو گا جبکہ آخری ووٹنگ 19مئی کو پنجاب، مغربی بنگال، چندی گڑھ، مدھیہ پردیش، جھاڑکھنڈ، ہماچل پردیش، اُترپردیش، بہار میں ہو گی

جبکہ نتائج 27 مئی تک مکمل ہو جائیں گے ۔

جنوری سے نریندر مودی نے اپنی الیکشن مہم کا آغاز کر دیا ہے جبکہ جنوری میں ہی اُترپردیش میں بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی اور سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو نے آپس میں اتحاد کیا ہے۔ اُترپردیش کی کُل نشستیں 80 ہیں جبکہ یہ اتحاد 76 نشستوں پر ہوا ہے۔ اُترپردیش کی دو اہم نشستیں امیٹھی اور رائے بریلی کی ہیں۔ یہاں سے راہول گاندھی اور سونیا گاندھی الیکشن لڑرہی ہیں جبکہ مایاولی اکھلیش اتحاد یہاں سے اپنے کسی اُمیدوار کو کھڑا نہیں کررہے ہیں تاکہ سونیا اور راہول کے ووٹ تقسیم نہ ہوں لیکن مایاوتی اکھلیش اتحاد کانگریس کے ساتھ بھی نہیں ہے۔ 2014ءکے لوک سبھا کے انتخابات میں مودی سرکار کے پاس 282 نشستیں تھیں۔ حکومت سازی کے لیے 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ 10سیٹوں کی جو اکثریت تھی وہ کم ہوتے ہوتے 274 پر آگئی تھیں یعنی مودی حکومت محض 2 سے 3سیٹوں کی اکثریت سے حکومت کررہی تھی۔ مہاراشٹر میں جب شیوسینا نے حکومتی اتحاد سے خود کو نکالنے کا بیان دیا تو مودی سرکار کو جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ ہندو انتہا پسندتنظیم شیوسینا اس دفعہ مہاراشٹر سے 23نشستوں پر الیکشن لڑرہی ہے۔
11اپریل کو بھارت بھر کی 543 نشستوں میں سے 91 نشستوں پر الیکشن ہو گا۔ یہ الیکشن 20ریاستوں میں ہو گا۔ 18اپریل کو 13 ریاستوں میں 97 نشستوں پر الیکشن ہو گا۔ 23اپریل کو 14 ریاستوں میں 115 نشستوں پر، 29اپریل کو 9ریاستوں میں 71 نشستوں پر۔ 6مئی کو 7ریاستوں میں 51 نشستوں پر، 12مئی کو 7ریاستوں میں 59 نشستوں پر اور آخری 19مئی کو 8ریاستوں میں 59 نشستوں پر الیکشن ہو گا۔
بھاجپا پارٹی اس دفعہ اندھراپردیش سے 25 نشستوں پر الیکشن لڑرہی ہے اور یہ ممکنات میں سے ہے کہ وہ شاید یہاں سے الیکشن جیت لے جبکہ گجرات کی 26 نشستوں پر اپنے مضبوط امیدوار کھڑے کرنے کی بدولت بھاجپا کی پوزیشن گجرات میں بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے کیونکہ گجرات مودی کا آبائی گاﺅں بھی ہے۔ اقتدار کے مرکز دہلی کی سات کی سات نشستوں پر اپنے امیدوار BJP نے کھڑے کیے ہیں جبکہ یہاں سے ”عآپ“ (عام آدمی پارٹی) پہلے بھی نشستیں جیت چکی ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ عآپ کا تحاد کانگریس سے ہو گا
تبدیلی کی ہوا گزشتہ سال دسمبر میں واضح طور پر محسوس ہوئی۔ جب ہندی بیلٹ سے مودی سرکار الیکشن ہارنے لگی، وسطی بھارت کو ہندی بیلٹ میں خاص اہمیت حاصل ہے اور یہاں کی ریاست چھتیس گڑھ تو خصوصی طور پر سادھوﺅں، جوگیوں، پروہتوں، فقیروں، یوگیوں سے بھری پڑی ہے اور ان کا گڑھ سمجھی جاتی ہے چونکہ یہ ریاست ہریالی اور جنگلات سے بھی اٹی پڑی اور سادھوﺅں سنتوں کے لیے ایسی جگہیں بڑی پُرکشش ہوتی ہیں لہٰذا وہ اپنے ڈیرے ڈالے یہاں بیٹھے ہوتے ہیں اسی ریاست چھتیس گڑھ سے جو کہ مودی کا گڑھ سمجھی جاتی تھی۔ مودی سرکار گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے چند ریاستوں کے الیکشن میں اس پر بُری طرح ہار گئی۔ یہاں کی کُل 90 نشستیں ہیں جن میں 68 کانگریس نے جیت لیں جبکہ مودی سرکار کے حصے میں 15نشستیں آئیں تھیں۔ تلنگانہ کی کُل 119 نشستیں ہیں۔ اکھلیش یادو اور مایاوتی (سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے رہنما) نے 2019ءکا الیکشن مل کر لڑنے کا اعلان کررکھا ہے ۔
2014ءکے جنرل الیکشن کی ایک حیران کُن بات یہ ہے کہ مودی سرکار کو 31فیصد ووٹ پڑے تھے جبکہ باقی اپوزیشن کو 69 فیصد ووٹ ملے تھے ۔ محض 31فیصد ووٹوں سے انڈیا پر پانچ سال حکمرانی کرنا مودی کی قسمت اور 69فیصد سے حکومت نہ بننا بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟ کہا جاسکتا ہے کہ مودی گجراتی چائے فروش قسمت کا دھنی نکلا۔ اب یہ مودی بنارس کے حلقے سے الیکشن لڑ رہا ہے ۔
بھارت میں ویسے تو سینکڑوں پارٹیاں ہیں لیکن کچھ بڑی پارٹیاں جو انتخابات میں مختلف جگہوں سے الیکشن لڑرہی ہیں اُن کی کچھ تھوڑی سی تفصیل بتا رہا ہوں تاکہ آئندہ قارئین کے ذہن میں رہے ”شیوسینا“ مہاراشٹر سے 23 نشستوں پر، جنتادل (متحدہ) بہار سے 17 نشستوں پر، ”لوک جان شکتی پارٹی“ بہار سے 6نشستوں پر، ”آل انڈیا آنّا رواویہا منیترا کازھاگام“ تامل ناڈو سے 7نشستوں پر، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی مہاراشٹر سے 24 نشستوں پر، جنتادل (سیکولر) کرناٹک سے 8 نشستوں پر، راشٹریہ جنتادل بہار سے 20 نشستوں پر، ”دراویدا منیترا کازھاگام“ تامل ناڈو سے 20 نشستوں پر، آل انڈیا ترنمول کانگریس مغربی بنگال سے 42، اُڑیسہ سے 10، تامل ناڈو سے 7 اور آسام سے 6 نشستوں پر، بہوجن سماج پارٹی (BSP) اُترپردیش سے 38، بہار سے 40، کرناٹک سے 28، راجستھان سے 25، ہریانہ سے 8 (کُل 168) نشستوں پر بشمول دوسرے علاقے، سماج وادی پارٹی (SP) اُترپردیش سے 37 نشستوں پر، پنجابی ایکتاپارٹی پنجاب سے 3، لوک انصاف پارٹی پنجاب سے 3پر، ”وائی ایس آر کانگریس پارٹی“ آندھراپردیش سے 25پر، آمہ مکال منیترا کازھاگام تامل ناڈو سے 38پر، تلیگودیشم پارٹی آندھرا پردیش سے 25پر، ”مکال نیتھی مایام“ تامل ناڈو سے 39پر، ”بیجوجنتادل“ اُڑیسہ سے 21پر، ”تلنگانہ راشٹریہ سمتھی“ تلنگانہ سے 16پر، ”نام تاملرکچی“ تامل ناڈو سے 39پر، عام آدمی پارٹی (عآپ) دہلی سے 7نشستوں پر الیکشن لڑرہی ہے۔ بھارت میں کرائے گئے ایک تازہ عوامی سروے کے مطابق بھارتی حکمرا ن جماعت تھارتی اجنتا پارٹی اور اسکی اتحادی سیاسی پارٹیاں آئندہ الیکشن میں واضح کامیابی حاصل کر سکتی ہیں،گزشتہ ہفتے کیے گئے اس عوامی جائزے کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریند ر مودی کو 264 نشستیں جبکہ اپوزیشن پارٹی کانگریس کو141 سیٹو ں پرکامیابی مل سکتی ہے جب کہ دیگر پارٹیاں 125 نشستیں حاصل کر سکیں گئی۔
بھارت میں اب تک جو بھی سروے آ رہے ان میں مودی کی جماعت کو برتری حاصل ہے ناظرین یہاں آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ جب مودی نے اقتدار سنبھالا تو ان کا سارا زور اس بات پر تھا کہ وہ انڈیا میں عوام کو روزگار دیں گے ،لیکن ہور اسکے بر عکس یہاں ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے کہ جب دنیا کی معشیت تیزی سے ترقی کر رہی ہیں تو بھارت کی معیشت سستی کا شکار ہے بھارت کی فی کس شرح ترقی جو کہ 2010 ء میں10 فیصد تھی اور مودی کے آخری سال 6.5 فیصد رہ گئی۔
بد عنوانی کا خاتمہ تو دور کی بات ہے ان کے دور میں ان پر فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری کے سودے میں 3000 کروڑ روپے کی خرد برد کا الزام لگایا گیا جس نے ان کی سیاسی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے ،
2014 ء میں بی جے پی نے مودی کا انتخابی نعرہ چائے والا کے طور پر متعارف کرایا تاکہ انہیں نچلی سطح پر عوامی مقبولیت دی جا سکے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس دفعہ انہوں نے چائے والا کی بجائے ’’ میں بھی چوکیدار‘‘ کے نئے نعرے سے خود کو میدان میں اتارا ہے ار اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ چوکیدار نریندر مودی کے نام سے مرتب کیا ہے
گزشتہ انتخابات میں 2014 ء میں جو 8 ریاستیں مودی کا اصل گڑھ ثابت ہوئیں ان میں بہار۔ چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، گجرات، مدھیا پردیش مہاراشڑا، راجستھان اور اتر پردیش تھیں۔ ان 8 ریاستوں کی 282 سیٹیں ہیں اور 2014 ء میں ان میں سے مودی کی پارٹی نے 216 پر بر تری حاصل کی۔ اس دفعہ اتنی سیٹس لینا نا ممکن ہے ۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے Opinion Polls یا رائے عامہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ مودی یہ الیکشن جیت جائیں گے۔ Times Now – VMR سروے کے مطابق کانگریس 135 سیٹیں لینے میں کامیاب ہو گی دیگر اپوزیشن کی پارٹیاں 125 سیٹیں لیں گے جبکہ 277 سیٹیں مودی کی بی جے پی کو ملیں گی ایشیاء اور افریقہ میں چونکہ سروے کمپنیاں پیسے لے کر سروے جاری کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں اس لیے ان سروے پر انحصار کرنا عقلمندی نہیں ہے ۔مودی ایک متلون شخص ہے یہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے سروے کرنے والی کمپنی کو خریدنا تو مودی سرکار کے لیے معمولی سی بات ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں