9

کیا عافیہ صدیقی جلد پاکستان آ رہی ہیں ؟

30مارچ 2003ء پاکستان کا ہی نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا ایک افسوسناک دن تھا جس روزمظلوم عورت عافیہ صدیقی کو اس کے تین بچوں، محمد احمد، مریم اور سلیمان کے ہمراہ اٹھا لیا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2003 ء میں گلشن اقبال کے علاقے سے اغوا کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسے گرفتار کر کے ایف بی آئی کے حوالے کر دیا ۔(یعنی بیچ دیاجس کا اعتراف سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب دی لائن آف فائرمیں بھی اعتراف کیا ہے کہ ہم نے کچھ پاکستانوں لوگوں ڈالروں کے بدلے امریکہ کے حوالے کیا)یہ خبر بھی گردش کر تی رہی کہ ڈاکٹر عافیہ خود ہی غائب ہو گئی ہیں پاکستانی حکومت نے اس وقت بھی میڈیا پر آنے والی اغوا کی خبروں کی تردید کی تھی جن کے تحت پاکستان کے خفیہ ادارے (آئی ایس آئی)کے بارے میں یہ کہا گیا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس نے عافیہ کو اغوا کیا اور امریکہ کے حوالے کیا ہے ۔معاملہ اتنا الجھ گیا تھا یا الجھا دیا گیا تھا کہ عام آدمی سچائی تک نہیں پہنچ سکتا تھا ۔لیکن زیادہ تر عوام نے اس بات کو یقین جانا کہ پاکستان کی حکومت نے عافیہ صدیقی کو خود امریکہ کےحوالے کر دیا ہے ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے رہائی کی باتیں تو بہت عرصے سے جاری ہیں لیکن ان میں شدت اس وقت آئی جب معروف صحافی اور تجزیہ نگار اوریہ مقبول جان نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا کہ 16 مارچ 2019کو عافیہ صدیقی کو امریکی جیل سے رہا کر دیا جائے گا ان کا مزید کہتاتھا کہ آج سے دو تین ماہ قبل جب کہ قیدیوں کے تبادلے کی بات آئی تو طالبان نے عافیہ صدیقی کی رہائی کا نام دیا تھا۔اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ طالبان کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کی طرف سے عافیہ صدیقی کا نام دیا گیا۔اوریہ مقبول جان نے کہا کہ عمران خان وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن کا کہنا تھا کہ عافیہ کی رہائی کے لیے 16 مارچ کی تاریخ کہی جا رہی ہے پر میرے خیال سے ان کو جنوری میں ہی آجانا چاہئیے چاہتے۔واضح رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہیوسٹن میں پاکستانی سفارتی عملے سے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے عمران خان کے نام پیغام بھی بھجوایا تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ماضی میں میری بہت حمایت کی ہے وہ ہمیشہ سے میرے ہیرو رہے ہیں۔اپنے خط میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ امریکا میں میری سزا غیر قانونی ہے میں قید سے باہر نکلنا چاہتی ہوں،عافیہ صدیقی کو جیسے ہی علم ہوا کہ عمران خان وزیر اعظم بن گئے ہیں تو انہوں نے عمران خان کے نام پیغام بھیجا تھا۔
امید کی جارہی تھی کہ طالبان سے مذکرات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں ،پاکستان نے امرایکہ اور طالبان کےدرمیان مذکرات کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے تو پاکستانی حکومت اس کے بدلے میں عافیہ صدیقی کی رہائی کامطالبہ کرےگی ،لیکن وفاقی وزراء کی طرف سے متضاد اعلانات کے بعد عافیہ کی رہائی کامعاملہ مزید پیچدہ ہو گیا ہے ، وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور و سینیٹر علی محمد خان نے جہاں عافیہ صدیقی کی رہائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے جلد خوش خبری ملنے کی نوید سنادی تو وہیں وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے قوم کی امیدوں پر پانی پھیر تے ہوئے واضح کردیا کہ امریکہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوئی باضابطہ بات ہوئی ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے ، امریکہ کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود ہی نہیں اس لئے کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے جاری کوششوں کایقین دلایا تھا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے تھاکہ پی ٹی آئی کی حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت امریکہ میں قید پاکستانی عافیہ رہا ہو جائے گی۔ سینیٹر طلحہ محمود نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کو افغان طالبان کا مطالبہ قرار دیا اور بتایاکہ وہ خود بھی اس سلسلے میں کوشش کررہے ہیں عافیہ صدیقی کی واپسی ممکن نہ ہونے پران کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی بھی ایک مرتبہ پھرمیدان میں آگئیں اور کہا کہ اگر یہ سب افواہیں تھیں تو حکومت اس معاملے میں خاموش کیوں رہی۔
خواتین کے عالمی دن 8 مارچ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سینیٹ میں قرارداد پاس کی گئی تھی، قرارداد کے مطابق کئی بار امریکا سے رہا کرنے کے لیے کہا گیا لیکن ایک نہ سنی گئی، حکومت کو چاہیے عافیہ کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سنہ 2010 میں امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوجیوں پرحملہ کرنے کے الزام میں 86 سال قید کی سزاسنائی تھی، وہ اس وقت ٹیکساس کی جیل میں قید ہیں۔امریکا کے دعوے کے مطابق عافیہ صدیقی کو افغان جنگ کے دوران افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا، عافیہ صدیقی پر امریکی فوجی کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم عافیہ صدیقی نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972 ء کو کراچی کے ایک مذہبی ،متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے 47 واں یوم پیدائش2 مارچ 2019ء کو تھا اور 30مارچ کو اسے قید بے گناہی میں 16سال مکمل ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جو انتہائی پڑھا لکھاہے۔ان کے والد محمد صدیقی ڈاکٹر تھے ۔ عافیہ نے قرآن حفظ کیا۔ عافیہ نے اپنی تعلیم کا بڑا حصہ یونیورسٹی آف ٹیکساس سے مکمل کیا ۔جہاں انہوں نے MIT کے تحت بائیالوجی میں گریجویشن کی ،اس کے بعد امریکہ میں ہی علم الاعصاب (دماغی علوم ) پر تحقیق کر کے PHD کی ۔اس دوران ان کے کچھ تحقیقی مضامین بھی ۔ مختلف جرائد میں شائع ہوئے ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پاکستانی نژا دڈاکٹر امجد خان سے شادی کی جس سے تین بچے ہوئے بڑا بیٹا احمد ،مریم،سلیمان یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی طلاق ہو گئی ۔طلاق کے بعد ڈاکٹر عافیہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنی والدہ کے ساتھ کراچی میں رہنے لگی ۔جو کہ گلشن اقبال میں مقیم تھیں ۔
عافیہ صدیقی 30 مارچ 2003 ء کواپنی والدہ کے گھر سے کراچی ائر پورٹ کے لیے ٹیکسی میں سوار ہوئیں ان کے ساتھ تین بچے تھے بڑا بیٹا احمد اس وقت چار سال کا ،اس سے دو سال چھوٹی بیٹی مریم اور سلیمان صرف ایک ماہ کا تھا ۔کہا جاتا ہےڈاکٹر عافیہ صدیقی کی دوسری شادی 9/11 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ شیخ محمد خالد کے بھتیجے عمر بلوچ سے ہوئی ۔یہ ہی سب سے بڑی وجہ ہے جو ان کا تعلق القاعدہ سے جوڑا جاتا ہے ۔جس وقت عافیہ کو اغوا کیا گیا اس وقت وہ آغا خان ہسپتال کراچی میں کام کر رہی تھیں ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے ” عافیہ موومنٹ ” بنائی اس کے تحت وہ در در جا کر انصاف کے لیے ، عافیہ کی قید بے گناہی سے رہائی کے دھکے کھا رہی ہے
امریکہ کے سابق صدر اوباما نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے اقتدار چھوڑنے سے قبل امریکی جیلوں میں قید 300خواتین کی رہائی کا حکم دیدیں گے چنانچہ انہوں نے ا یسا ہی کیا اور اپنے دور اقتدار میں صدر اوباما کے حکم پر تقریباً150خواتین کو رہا کیا گیا جو مختلف جرائم میں قید کاٹ رہی تھیں لیکن انتہائی افسو س و دکھ کی بات یہ ہے کہ ان خواتین کی فہرست میں پاکستان کی ذہین و فطین بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو اس وقت امریکی جیل میں اپنے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہی ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔
عافیہ نے امریکی یونیورسٹیوں سے آئی ٹی ٹیکنالوجی کے مختلف علوم میں گریجویشن اور پی ایچ ڈی بھی کی۔ برسوں امریکہ میں مقیم رہنے کے باوجود اسلامی طرز معاشرت کی پوری طرح پاسداری کی اور ایک مکمل مسلمان خاتون کی طرح رہیں۔ ان کو امریکہ نے تعلیم مکمل ہونے کے بعد پیشکش کی تھی کہ وہ امریکہ میں رہیں، انکی صلاحیتو ں کے مطابق ملازمت دی جائیگی مگر ڈاکٹر عافیہ کا موقف یہ تھا کہ وہ اپنے ملک کی خدمت کریں گی۔ ڈاکٹر عافیہ نے تعلیم کے میدان میں مغرب کی کامیابی کا راز اپنے پی ایچ ڈی کی تحقیق کے دوران پالیا تھا اور انکا کہناتھا کہ وہ پاکستان جاکر اس نظام کو رائج کریں گی اور ان شاءاللہ جلد ہی پاکستان مغربی ممالک کے برابر ترقی و خوشحالی میں کھڑا ہوجائیگا۔ وہ پاکستان آئیں اور انہوں نے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا۔یہ بات سپر پاور امریکہ سے برداشت نہ ہوئی اور ایک بے گناہ کو قصوار دلوا کر پنے ارمانوں کو تسکین پہنچائی۔
دخترِ پا کستان کو جس اند ا ز میں امر یکی عدالت نے سز ا دی اس سے امریکہ کے نظام ِانصاف کا پو ل پو ری دنیا میں کھل آ گیا ۔ جو سزا دی گئی ہے اس سے بھی پو ری دنیاکو امریکی سفاکی کا پتا چل گیا ہے چنا نچہ عافیہ نے اپنے خط میں اسی عدالت کی خود مختا ری اور انصاف کا حوالہ دیا ہے لیکن ایک بات جو اب تک عوام کی سمجھ سے بالا تر تھی کہ عافیہ جو کر اچی سے اسلا م آباد کےلئے روانہ ہوئی تھیں وہ کیسے افغانستان پہنچ گئیں۔ اس راز سے بھی پر دہ عافیہ کے خط سے اٹھ گیا ۔اس سے پہلے مختلف قیا س آرئیا ں کی جاتی تھیں۔ سچ تو وہی جا نتا ہے جس پر واقعہ گزرا ہو۔ اس کی سب سے بڑی شاہد خود عافیہ ہیں۔ انھو ں نے بتایا ہے کہ جب وہ اسلام آبا د کیلئے گھر سے نکلیں تو ان کے ہمر اہ 3 بچے تھے جس میں ایک بچہ شیر خوا ر تھا۔ سیکیو رٹی والوں نے گھر کے قریب ہی ان کو دبو چ لیا اور اغوا کر کے لے گئے، اس کے بعد امر یکیو ں کے حوالے کر دیا ، یہاں سے ایک خوف ناک داستان شروع ہوتی ہے ۔
4 اگست 2008ء کو امریکہ نے ایک جھوٹ بولااور اعلان کیا کہ عافیہ صدیقی کو 17جولائی کو غزنی میں افغان پولیس نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ امریکی سپاہیوں سے ان کی بندوق چھین کر ان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے زخمی ہو گئی تھی۔ حملہ آور زخمی ہو گئی اور امریکی سپاہیوں کو کوئی خراش تک نہ آئی۔ اسے امریکیوں کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کے جرم میں امریکہ منتقل کیا گیا اور پھر نیو یارک کی جنوبی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں مقدمہ چلا اور افغانستان میں امریکی فوجی افسروں کو قتل کرنے کی کوشش سمیت 7 الزامات میں 86سال کی سزا سنا دی۔ جس وقت سزا سنائی گئی تو اس کی وکیل اور ترجمان ٹینا فوسٹر نے کہا کہ عافیہ کو سزا صرف اور صرف پاکستانی حکومت کی بے حسی، لاپروائی اور بے اعتنائی کی وجہ سے ہوئی ہے ۔
امریکی عدالت سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو طویل قید کی سزا افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ سزا کا فیصلہ سنا کر امریکی عدالت نے یہ ثابت کرنےکی کوشش کی ہے کہ عافیہ واقعی ہی مجرم ہے اور یہ کہ امریکہ مخالف افراد یا قوتوں کو کسی طور جینے کا حق نہیں ہے۔ امریکی انتظامیہ کے تمام تر اقدامات اور امریکی عدالت کی جانب سے اس کیس کی سماعت کے دوران عافیہ صدیقی
نے ایک سے زیادہ بار عدالتی عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ پاکستانی عوام کے لئے یہ بات حیرت کا باعث تھی کہ امریکی عدالت نے ان لوگوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جو مختلف جیلوں میں دورانِ قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ بہیمانہ سلوک کرتے رہے ۔ بہر حال یہ امریکی عدالت کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کو کوئی بھیانصاف پسند تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اب تک اس خاتون اور تین معصوم بچوں کو امریکیوں کے ہاتھ فروخت کئے ہوئے 16سال ہو چکے ہیں اور اس قوم کی بے حسی اور خاموشی کو بھی اتنے ہی برس ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کےقانونی پہلوؤں کےحوالے سے پاکستانی اور بین الاقوامی ماہرینِ قانون نےمتعددکمزوریوںکی نشاندہی کی تھی، اس کیس کی اخلاقی بنیادیں پہلے دن سے ہی اس قدر کمزور اور شکستہ ہیں کہ خود امریکی محکمہ انصاف کے لئے اپنے أوقف کا أوثر دفاع کرنا دشوار رہا تھا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی بیان کردہ کہانی میں اتنے جھول تھے کہ قانونی حلقے ڈاکٹر عافیہ کے بری کئے جانے کی توقع کر رہے تھے۔ اکثر حلقے پر امید تھے کہ عافیہ کو صرف علامتی نوعیت کی سزا سنائی جائے گی۔ تاہم مختلف جرائم میں 86سال کی سزا سنانے اور ان پر بیک وقت علمدرآمد کے بجائے یکے بعد دیگرے عمل کی ہدایت سے قانونی اور جمہوری حلقے بھونچکا رہ گئے۔
جن لوگوں کی امریکی عدالتی نظام اور طریقِ انصاف کے بارے میں مثبت رائے تھی، ڈاکٹر عافیہ کیس نے ان سب کو اپنی رائے سے رجوع کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہو گیا کہ امریکہ میں جنگ کی حامی لابی اس قدر طاقتور اور با اثر ہے کہ وہ ایک ذہنی و جسمانی مریض خاتون جو تین بچوں کی ماں بھی ہے اسے بھی اپنے جنگی جنون کی بھینٹ چڑھانے سے گریز نہیں کرتی۔ڈاکٹر عافیہ کی تباہ حال ذہنی اور جسمانی صحت بھی ایک اہم فیکٹر ہے، دنیا بھر میں عدالتیں ملزم کی حالت کو اہمیت دیتی ہیں مگر یہ اصول اس کیس میں نظر انداز ہوا۔ ایک اور اہم نکتہ جو امریکی حکومت نے نظر انداز کیا وہ عافیہ صدیقی کی بلگرام جیل میں کاٹی جانے والی پانچ سالہ کٹھن قید تھی۔ ان کی رہائی کے بعد یہ سوال پیدا ہونا تھا کہ آخر انہیں بغیر مقدمہ چلائے بگرام جیل میں کیوں رکھا گیا۔ یہ امکانات بھی تھے کہ امریکی حکومت کو بھاری ہرجانے بھی بھرنے پڑ جاتے۔ سرکاری وکیلوں کو ایک خطرہ یہ بھی ہو گا کہ نائن الیون ملزموں کے کیسز امریکی عدالتوں میں زیرسماعت تھے عافیہ کی رہائی سے ان ملزموں کے بری ہونے کےامکانات بڑھ جاتے۔ اس سارے معاملے میں ایک افسوسناک پہلو امریکی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا انتہائی بے حسی پر مبنی رویہ ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلمان ممالک میں گرفتار ہونے والی خواتین پر جس طرح شور مچاتی اور آہ و بکا کرتی ہیں ڈاکٹر عافیہ کےمعاملے میں ان کا رویہ یکسر مختلف بلکہ متضاد رہا ہے۔ امریکی سول سوسائٹی نے بھی مایوس ہی کیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں اسلامی دہشت گردی کے نام پر جو چاہے ظلم ڈھاجائے،وہاں کے عوام اورانسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں انتہا پسند امریکیوں کےدباؤ کےپیشِ نظر حق و انصاف کی بات کرنے سے گریز کریں گی۔
امریکی انتظامیہ اس سارے معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہو جائے گی کہ عافیہ صدیقی کو طویل قید کی سزا سنا کر در اصل امریکہ نے پاکستان اور پوری مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات مزید خراب کر لئے ہیں ، گزشتہ دس سالوں میں امریکہ نے دیکھ لیا کہ اسے پوری مسلم دنیا سے کچھ اچھا جواب نہیں مل رہا ہے۔ امریکہ کے پاس اب بھی موقع ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جتنی سزا کاٹ چکی اسی کو کافی سمجھتے ہوئے باقی کی سزا کو معطل کر دے تو ممکن ہے کہ اسے پاکستان اور مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے اور اپنا اعتدال پسندانہ امیج قائم کرنے کا ایک بہترین موقع میسر آ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں