46

پنجاب پولیس میں سرکاری دلالوں کا انکشاف… پولیس افسر جسم فروشی، منشیات اور قماربازوں سے حصہ لیکر کڑور پتی بن گئے

لاہور پولیس کے28 بدنام زمانہ ڈی ایس پیز اور انسپکٹر زحرام کاری ،قماربازی کے اڈوں اور منشیات فروشوں سے باقاعدہ رشوت لیتے ہیں جبکہ اکثر ہر طرح کے کریمنلز سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور یہ سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسی اور انٹرنل اکاونٹبیلٹی برانچ کی رپورٹ کی روشنی میں کرپٹ پولیس افسران کی کرپشن کے طریقہ واردات کی انکوائریز کر کے انکے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کر کے رپورٹ بھجوا ئی جائے تاکہ محکمے سے کالی بھیڑوں کا محاسبہ کیا جا سکے۔
تاہم لاہور کے دو انسپکٹرز صرف اس وجہ سے بچ گئے کہ انکے سرکل آفسیر اے ایس پی کی سپیشل ٹیم سرکل کے تمام گیسٹ ہاﺅسز اور ہوٹلز سے رقم ڈائریکٹ وصول کرتے ہے ۔ایک اعلی پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ایسے کرپٹ پولیس افسران کی فیلڈ پوسٹنگ کے دوران فائنل کی گئی تفتیشیں اور انکوائریز پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کیونکہ کوئی کرپٹ پولیس افسران جو جرائم کرا کے رشوت لے وہ کسی صورت انصاف نہیں کرسکتا ۔ سی سی پی او لاہور آفس سے جاری مراسلہ نمبر 35151.55/E&T.VI کے ساتھ پولیس افسران کی فہرست بھی بھجوا ئی گئی ہیں . اسی طرح منشیات فروشوں ،قماربازوں ،گیسٹ ہاﺅسز اور ہوٹل مالکان و کریمنلز سے رشوت لینے والے انسپکٹر میں سابق انچارج شامل ہیں ۔اس حوالے سے دیگر پولیس افسروں کی خفیہ انکوائریز جاری ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں