34

پنجاب میں لاک ڈاؤن کا آغاز، دکانیں اور دفاتر بند

پنجاب بھر میں آج سے 2 ہفتوں کے لئے باقاعدہ لاک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا ہے اور صوبہ بھر میں ہر قسم کے مذہبی و سماجی اجتماعات پر پابندی ہے جبکہ ملکی و غیر ملکی فضائی آپریشن بھی مکمل بند ہے۔

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے اعلان کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے لاک ڈاؤن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

لاہور اور راولپنڈی سمیت صوبے بھر میں تمام سرکاری و نجی ادارے مکمل بند ہیں تاہم بینک، میڈیکل اسٹورز اور اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلی ہیں اور شہریوں کو وہاں سے خریداری کی اجازت ہے۔
اندرون شہر، بین الاضلاعی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی مکمل بند ہے جبکہ ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے تاہم صرف فیملیز کو اس پابندی سے استثنیٰ ہے۔

لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کے لئے پولیس الرٹ ہے، شہریوں کو دکانوں پر ناشتہ کرنے کی اجازت نہیں، تاہم کھانا ساتھ لے جانے کی اجازت ہے۔

لاہور شہر میں سڑکیں سنسان ہیں اور ٹریفک نہ ہونے کے برابرہے۔ شہر میں شاہ عالم مارکیٹ، لبرٹی، اوریگا، اچھرہ سمیت تمام شاپنگ سنٹرز اور تجارتی مراکز بند ہیں۔

رائیونڈ مرکز بند

کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر تبلیغی مرکز رائیونڈ کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ تبلیغی مرکز میں موجودجماعت کے لوگوں کو فوری طور پر اپنے گھر جانیکی ہدایت کی گئی ہے اور غیرملکی طلباء کو مرکز سے باہر نہ نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پنجاب کورونا آرڈیننس 2020 تیار

حکومت نے پنجاب کورونا آرڈیننس 2020 تیار کر لیا۔ ذرائع گورنر ہاؤس کے مطابق آرڈیننس کے تحت پنجاب میں کسی بھی شخص کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے گا، کسی بھی شہری کو علاج کی غرض سے تحویل میں لے کر گھر سے سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکے گا۔

آرڈیننس کی حکم عدولی پر 10 ہزار روپے سے 50 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید کی سزا ہوگی، آج صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آرڈیننس کی منظوری دی جائے گی اور سیکرٹری صحت کیپٹن (ر)محمد عثمان آرڈیننس پیش کریں گے۔

وزیرقانون راجہ بشارت نے کہا کہ کورونا آرڈیننس کامسودہ موصول ہوگیاہے، خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پنجاب کابینہ آرڈیننس کی منظوری دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں