44

سعودیہ اور ایران کی لڑائی کی اصل وجہ کیا ہے؟

سعودیہ عرب اور ایران اسلامی دنیا کے دو اہم تریں ملک ہیں لیکن بدقسمتی سے دو نوں ملکوں کے درمیان کبھی بھی خوشگوارتعلقات نہیں رہے۔سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں لیکن حال میں اس کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟دونوں مسلم ملک ہونے کے باوجود محبت سے کیوں نہیں رہ پا رہے ؟
سعودی عرب اور ایران مشرقِ وسطیٰ کے دو بڑے ملک مسلم ملک ہیں اور دونوں اس خطے پر اپنی اپنی بالادستی چاہتے ہیں ان دونوں ملکوں کے درمیان کھنچاؤ کی ایک بڑی وجہ مذہب ہے۔ ایرانیوں کی بڑی اکثریت شیعہ ہے جب کہ سعودی عرب سنی اکثریت کا ملک ہے۔یہی شیعہ سنی تفریق مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ بعض ملک اکثریتی سنی اور بعض اکثریتی شیعہ ہیں۔ شیعہ اکثریت والے ملک تعاون کے لیے ایران کی طرف دیکھتے ہیں جب کہ سنی ملک سعودی عرب کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔
اسلام کا آغاز سعودی عرب سے ہوا تھا۔ اس لیے وہ آج بھی خود کو مسلم دنیا کا رہنما سمجھتا ہے۔ تاہم 1979 میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد خطے میں ایک نئی طرز کی مذہبی ریاست وجود میں آ گئی، جس کا واضح مقصد یہ تھا کہ اپنا ماڈل اپنی سرحدوں سے باہر برآمد کیا جائے۔اس ریاست نے سعودی عرب کی حیثیت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔گذشتہ 15 برس میں اوپر تلے پیش آنے والے کئی واقعات نے دونوں کے درمیان تلخی میں اضافہ کیا ہے۔
2003 میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے سنی عرب اور ایران کے دشمن صدام حسین کو معزول کر دیا۔ اس سے علاقے میں طاقت کا پلڑا ایران کی طرف جھک گیا کیوں کہ عراق میں اقتدار اب شیعہ اکثریت کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔2011میں عرب سپرنگ کے تحت اس خطے میں خاصی ہلچل پیدا ہوئی اور کئی ملک عدم استحکام کا شکار ہو گئےتھے ۔
سعودی عرب اور ایران نے اس غیر یقینی صورتِ حال کو اپنا دائرۂ اثر بڑھانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا ۔ شام، بحرین اور یمن خاص طور پر اس رسّہ کشی کا شکار ہوئے، اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان خلیج گہری ہی ہوتی چلی گئی۔
ایران کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے آلۂ کار نصب کر کے ایران سے بحیرۂ روم تک کے علاقے پر اپنا غلبہ چاہتا ہے۔اس مقصد میں ایران کو بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے۔
شام میں ایرانی اور روسی پشت پناہی کی بدولت صدر بشار الاسد باغیوں کا بڑی حد تک خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب ان باغیوں کا سب سے بڑا حامی تھا۔سعودی عرب بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ روکنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، اور اس کے نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔
سعودی عرب کے جنوب میں واقع یمن میں باغیوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے تاکہ وہاں ایرانی اثر ختم کیا جا سکے۔ لیکن پا نچ برس سے جاری یہ جنگ اب تک ایک مہنگا جوا ثابت ہوئی ہے۔
بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودیوں نے لبنان کے وزیرِ اعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا کہ لبنان کو کمزور کیا جا سکے جہاں ایران کی اتحادی جنگجو تنظیم حزب اللہ کا غلبہ ہے۔
اس کے علاوہ یہاں بیرونی طاقتیں بھی سرگرم ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو شہ دے رکھی ہے، جب کہ اسرائیل بھی ایران کو اپنا دائمی دشمن سمجھتے ہوئے ایک لحاظ سے سعودی عرب کی بالواسطہ مددکر رہا ہے۔
اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران نواز شامی جنگجو کہیں اس کی سرحد تک نہ پہنچ جائیں۔اسرائیل اور سعودی عرب ہی وہ دو ملک تھے جنھوں نے 2015 میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر طے پانے والے بین الاقوامی معاہدے کی شدت سے مخالفت کی تھی۔ ان کا اصرار تھا کہ معاہدہ ناکافی ہے ۔
سعودی عرب کے کیمپ میں متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، مصر اور اردن شامل ہیں جبکہ دوسری طرف ایران کے طرف داروں میں شامی حکومت کے علاوہ حزب اللہ کی طرز کی شیعہ جنگجو تنظیمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عراق کی شیعہ اکثریتی حکومت بھی ایران کی حلیف ہے، حالانکہ وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکی امداد پر انحصار کرتی ہے۔
ایران اور سعودی عرب کی رسہ کشی کئی اعتبار سے امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کے مترادف ہے۔یہ دونوں ملک براہِ راست ایک دوسرے سے تو نہیں لڑتے لیکن اپنے کارندوں کے ذریعے برسرِ پیکار ہیں۔ شام اس کی واضح مثال ہے جب کہ سعودی عرب نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ شیعہ حوثی باغیوں کو میزائل فراہم کر رہا ہے اور وہ اسے سعودی حدود پر حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یمن کی دلدل میں پھنسنےاور شام میں تقریباً شکست کھانے کے بعد سعودی عرب نے بظاہر لبنان کو بطور نیا میدانِ جنگ منتخب کیا ہے۔خدشہ ہے کہ کہیں لبنان بھی شام کی طرح انتشار کا شکار نہ ہو جائے، لیکن ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ وہاں بھی سعودی عرب کو کوئی خاص کامیابی نہیں ملنے والی۔
لبنان میں ان دونوں کے درمیان کشمکش کے بیچ اسرائیل بھی بڑی آسانی سے کود سکتا ہے کیوں اس کا حزب اللہ سے پہلے ہی سے بیر چل رہا ہے۔بعض ماہرین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ سعودی ولی عہد جان بوجھ کر حزب اللہ کو اسرائیل سے لڑوانا چاہتے ہوں تاکہ اس سے ایران نواز جنگجو تنظیم کو کسی طرح کمزور کیا جا سکے۔
سعودی عرب یہ سمجھتا ہے کہ ایران حوثیوں کو مالی اور عسکری امداد دے رہا ہے اور انہیں تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔ ایران کی وجہ سے یمن میں 2015ء سے 2019ء تک 14ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جس میں 5200 بچے بھی شامل ہیں۔
جبکہ دوسری طرف ایران مطالبہ کرتا ہے اگر سعودی عرب اسرائیل سے تعلق ختم کر دے تو اس سے دوستی کاہاتھ بڑھانے کے لیے تیار ہیں لیکن ساتھ ہی سعودی عرب یمن میں بمباری بھی بند کرے ۔
آپ کو یہاں یاد دلاتا جاہوں کہ ایران نے سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والی مسلم اتحادی فوج جس کی سربراہی پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کر رہے ہیں اس کی حمایت سے بھی انکار دیا تھا ۔فی الحال تو ریاض اور تہران پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی براہِ راست ایک دوسرے سےجنگ نہیں لڑنا چاہتے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں