32

مشتاق چینی کون ہے؟: مشتاق چینی نے اربوں کی پراپرٹی کیسے بنائی؟

آج کل پاکستانی میڈیا میں ایک مشتاق نامی شخص کا بڑا چر چا ہو رہا ہے اور سوشل میڈیا پر مشتاق عرف چینی کی ٹاپ ٹریند بننے ہوئے ہیں
مشتاق عرف چینی شہباز شریف کی فیملی کا فرنٹ مین ہے۔شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ اور دیگر کیسز میں مشتاق چینی کا کردار بہت اہم ہے ۔ناظرین یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ جس سابق صدر آصف علی زرداری کے لیے ایان علی منی لانڈرنگ کرتی تھی اسی مشتاق عرف چینی شہباز شریف کی فیملی کے لیے منی لانڈرنگ کرتا تھا ۔ مشتاق عرف چینی کی لاہور ،مری ،اسلام آباد ،راولپنڈی اور لاہور میں اربوں روپے کی جائیداد ہیں جن کا نیب نے سوراخ لگا لیا ہے ۔
پیر کی صبح دس بجے کے قریب محمد مشتاق عرف چینی لاہور ایئر پورٹ سے بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش میں تھا کہ ایف آئی اے نے معمول کے مطابق اس کا پاسپورٹ چیک کرنے کے بعد اسے روک لیا، طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جب محمد مشتاق کے پاسپورٹ کی تفصیلات چیک کی گئیں تو معلوم ہوا کہ اس کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے۔ وفاقی ادارے ایف آئی اے نے فوراً متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ مشتاق کا نام بلیک لسٹ میں نیب کے کہنے پر ڈالا گیا، لہٰذا فوراً نیب کو اطلاع دی گئی اور یوں ملزم مشتاق نیب کو نیب نے گرفتار کر لیا۔
شہبازشریف فیملی کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ملزم مشتاق کی گرفتاری نیب کی جانب سے کلیدی قرار دی جا رہی ہے۔ نیب کے مطابق مشتاق مبینہ طور پر حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے لئے فرنٹ مین کا کردار ادار کرتے ہوئے جعلی ترسیلات کے ذریعے کم و بیش 50 کروڑ روپے ابتدائی طور پر اپنے اور بعد ازاں سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں منتقل کر چکا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملزم مشتاق کے حوالے سے شریف فیملی واضح تردید کر چکی ہے کہ یہ شخص کبھی ان کا ملازم نہیں رہا۔ یہ تردید تکنیکی طور پر تو درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ شخص بنیادی طور پر شریف فیملی کی شوگر مل کیلئے پرائیوٹ ’’ڈیلر‘‘ کے طور پر کام کرتا تھا۔
چینی کے کاروبار سے منسلک حلقوں میں ملزم ’’مشتاق ہتھوڑا‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ محمد مشتاق المعروف ’’ہتھوڑا‘‘ کا تعلق چنیوٹ سے ہے جو بعدازاں لاہور میں سیٹل ہوا، میڈیا باکس کی معلوم کے مطابق ملزم کا ایک بیٹا چند ماہ پہلے ہی معاملات کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے ملک سے باہر جا چکا ہے۔ مشتاق عرف ’’ہتھوڑا‘‘ پرائیویٹ ڈیلر کی حیثیت سے مبینہ طور پر چینی کی خریدو فروخت قاعدے کے مطابق اور ’’آؤٹ آف بک‘‘ بھی کرتا رہا۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ’’آؤٹ آف بک‘‘ معاملات عموماً ٹیکسوں کی پہنچ سے دور رہ جاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہی ’’آؤٹ آف بک‘‘ رقم بے نامی اکاؤنٹس تک پہنچائی گئی، نیب کی جانب سے 23 اکتوبر 2018 سے جاری جانچ پڑتال کے دوران درجنوں ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ اداروں کو مختلف کرداروں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
پیرکے روز گرفتار کیے گئے شریف خاندان کے فرنٹ مین مشتاق عرف چینی کو منگل کو لاہور کی احتساب عدالت پیش کیا گیا اور لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف خاندان کے فرنٹ مین مشتاق عرف چینی کو 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر قومی ادارہ احتساب (نیب) کے حوالے کردیا۔
نیب نے عدالت کو بتایا کہ مشتاق عرف چینی شہباز شریف کی فیملی کا فرنٹ مین ہے۔نیب نے احتساب عدالت کو بتایا کہ مشتاق عرف چینی نے سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں 50 کروڑ کی ٹرانزیکشن کی، ملزم سے نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات کرنی ہے، نیب نے عدالت سے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔عدالت نے مشتاق عرف چینی کو 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔یاد رہے کہ مشتاق چینی کو گزشتہ روز بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد مشتاق چینی پی آئی اے کی پرواز 203 سے دبئی روانہ ہو رہا تھا تاہم اس کا نام ای سی ایل میں شامل ہونے پر اسے آف لوڈ کردیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتاق چینی نے سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں 60 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کی تھی اور حمزہ شہباز کی ماڈل ٹاؤن میں گرفتاری کے موقع پر روپوش ہوگیا تھا۔مشتاق چینی سے متعلق مزید انکشافات سامنے آئے تھے جس کے مطابق ملزم نیب کو 2 مختلف مقدمات میں مطلوب تھا اور اس پر 60 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے جبکہ رمضان شوگر مل سے نکاسی کے لیے نالے کا جعلی سروے کروانے کا بھی الزام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں