17

چینی لڑکے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرنے کے خواہش مند کیوں ہیں؟. چین میں پاکستانی دلہنوں کے جسمانی اعضاء فروخت ہونے لگے

پاکستان اور چین کی عوام میں جس طرح تیزی کے ساتھ رابطے بڑھ رہے ہیں اسی تیزی کے ساتھ اب یہ رابطے رشتے داریوں میں تبدیل ہو رہے ہیں چینی لڑکوں کی پاکستانی لڑکیوں حتیٰ کہ ادھیڑ عمر لڑکیوں کہ جن کو ہم آنٹی کہتے ہیں، اُن سے بھی شادیوں کی خبریں تواتر سے سننے میں آتی رہتی ہیں اور کچھ خبریں ہیں جو رپورٹ ہو رہی ہیں، بہت سی خبریں رپورٹ نہیں ہوتیں۔
چین میں ایک عرصے سے ’’ایک جوڑا، ایک بچہ‘‘ کی پالیسی رائج ہے۔ چین کا کل رقبہ 9.597 ملین مربع کلومیٹر یعنی 95 لاکھ 97 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ 2017 میں اس کی کل آبادی کا تخمینہ 1.386 ارب لگایا گیا تھا۔ دوسری جانب بھارت کی آبادی 1.33 ارب پر مشتمل ہے۔ چین میں کمیونسٹ پارٹی کا راج ہے۔ 2013 سے پہلے تک ایک سے زائد بچہ رکھنے پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد تھی۔ اس ایک پابندی نے چین کے خاندان کے نظام کو اُلٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ اس سے آبادی تو پھر بھی کنٹرول نہ ہو سکی، شاید اضافے میں کچھ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہوگی تاہم اس کے اپنے نقصانا ت بھی ہوئے۔ پہلا نقصان تو یہ ہوا کہ وہاں پر تناسب بگڑ گیا۔ عورتوں اور مردوں کی تعداد میں اچھا خاصا فرق دیکھنے میں آیا۔ اس کے بعد وہاں پر رشتے ختم ہوگئے، چین کی غالباً دو نسلیں حقیقی چچا، ماموں، تایا، پھوپھی کے رشتوں سے ناواقف ہیں کیونکہ جب بچہ ہی ایک ہوگا تو اُس کا حقیقی رشتہ کیا خاک ہوگا؟ اس کے بعد وہاں کی لڑکیاں بھی شادی کے رشتے میں بندھنے کے بجائے سنگل رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
عمر کے حساب سے اپنی ضرورت کو پورا کرنے کےلیے وہاں کی لڑکیاں ریلیشن شپ قائم کرتی ہیں لیکن شادی کرکے خاندان آباد کرنے کو تیار نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں مردوں کےلیے شادی کرنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ اس مسئلے نے وہاں پر شادی کو بھی کاروبار بنا دیا۔ وہاں پر میرج کے دفاتر دیگر ممالک سے لڑکیاں منگوا کر اُن کی چینی لڑکوں سے شادیاں کرواتے تھے۔ چینی مرد اس کام کےلیے ایک طرف دفتر والوں کو بھاری فیس دیتے تھے تو دوسری جانب اُس لڑکی اور اُس کے خاندان کو بھی اچھا خاصا پیسہ دیا جاتا تھا۔ چینی اخبارات میں ماضی میں یہ خبریں بھی دیکھنے میں آئیں کہ بیرون ملک سے شادی کےلیے آئی لڑکی سب کچھ سمیٹ کر اچانک منظر عام سے غائب ہوگئی ہیں۔
چین کا ڈیٹا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ 1990 سے قبل تک چینی کی کسی اور ملک میں شادی ایک خبر ہوتی تھی کہ ایسا کبھی کبھار ہوتا تھااور 1989 میں تو ایسا شاید ہی نہیں ہوتا تھا۔ لیکن 2010 میں یہ شرح دس گنا تک بڑھ چکی تھی۔ چینی مرد فلپائنی عورتوں سے شادی کو ترجیح دیتے تھے اور اس کی ایک وجہ شاید نین نقش کا ایک سا ہونا ہے۔ اس کو ’چی فلا پینو‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ویت نام، منگولیا، کوریا وغیرہ سے لڑکیاں چینی لڑکوں کےلیے آنے لگی۔ تاہم جب فلپائنی لڑکیوں نے چینی مردوں کو ٹھیک ٹھاک دھوکے دیئے تو انہوں نے مشرقی ایشیا کے علاوہ آپشن بھی استعمال کرنا شروع کیا۔ اس ضمن میں پاکستان، بنگلہ دیش اور کسی حد تک بھارت وجہ انتخاب ٹھہرے۔
2013ءمیں چین کی حکومت نے ’’فی جوڑا ایک بچہ‘‘ کی پالیسی ختم کردی اور اب ایک خاندان کو دو بچے رکھنے کی اجازت ہے۔ لیکن ابھی اس دو بچے کی نسل کو جوان ہونے میں 14 سال باقی ہیں۔
چین کی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے مطابق سنہ 2020 تک ممکنہ طور پر چین میں دو کروڑ چالیس لاکھ مردوں کو شادی کے لیے عورتیں دستیاب نہ ہوں گی چین میں مردوں اور عوتوں کی آبادی تمام ممالک میں سب سے زیادہ غیرمتوازن ہے۔ چین میں ہر 118 لڑکوں کی پیدائش کے مقابلے میں ایک سو لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں۔
چین میں مردوں اور عورتوں کی آبادی غیر متوازن ہونے کی وجہ سے چینی لڑکوں نے شادی کے لیے مشرقی ایشیا کا رخ کر لیا ہے کیوں پاکستان اور ہندوستان میں لڑکیوں کے والدین ان کی شادیوں کے لئے جہیز کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں مگر چین میں تو معاملہ بالکل ہی الٹ ہے۔ چین میں لڑکے اور لڑکیوں کی آبادی کا توازن اس حد تک بگڑ گیا ہے کہ نوجوانوں کو اپنی بیویاں بھی ہزاروں ڈالرز دے کر خریدنا پڑ رہی ہیں۔
چینی باشندوں کو پاکستان میں شادی کرنے کے لیے اتنی تگ دو نہیں کرنی پڑتی اور چین کی نسبت بہت سستی شادی پاکستانی دلہنوں سے رچا لیتے ہیں پاکستان راویت کے مطابق اگر لڑکی مسلمان ہو تو چینی لڑکے اسلام قبول کرکہ اسلامی راویت کے مطابق شادی کرتے ہیں ۔چینی لڑکوں کی آئے روز پاکستانی لڑکیوں سے شادی خبریں آتی رہتے ہیں ۔لیکن اب ایک ایسا نکشاف ہو ا سن کر آپ حیران ہو پرشان ہو جائیں گے کہ چینی لڑکے شادی کے نام پر پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ کیا ظلم کرتے ہیں ۔ دوستو اس کی تفصل بتانے سے پہلے میر ی آپ سے گزارش ہو گئی کہ ریڈ بٹن پر کلک کرکہ ہمارے چینل کو سبکرائب کریں اور ساتھ ہی بل کے نشان پر کلک کریں تاکہ آپ کو ہماری نئی ویڈیوز ملتی رہیں ۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں انکشاف ہوا ہے کہ چینی شہری پاکستانی خواتین سے شادی کے بعد ان کے جسم کے اعضا نکال لیتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے واقعات کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں ہیں ۔ ممبر کمیٹی شنیلا رتھ نے انکشاف کیا کہ پنجاب میں خواتین چینی شہریوں سے شادیاں کر رہی ہیں، چینی شہری غریب بچیوں کو پیسے دیکر شادیاں کر رہے ہیں اور شادی کے بعد ان کے جسم کے اعضا نکال لیتے ہیں۔ ممبر کمیٹی لعل چند نے کہا کہ چینی شہری جعلی طور پر مسلمان بن کر بچیوں سے شادیاں کر رہے ہیں چینی شادی کےلیے مذہب تو تبدیل کر لیتے ہیں لیکن چونکہ چین میں عملاً کمیونزم ہے لہذا اُن کو دین کی بنیاد کا بھی علم نہیں ہوتا اور زندگی حرام حلال کی تمیز کے بغیر بسر کرتے ہیں ۔قا ئمہ کمیٹی نے اس معاملے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے چیئرمین کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف کو ہدایت کی کہ وہ ایک ماہ میں تمام صوبائی حکومتوں سے اس حوالے سے مشورت کریں اور قانون سازی کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں