29

نیب حمزہ شہباز کو گرفتارکرنے میں ناکام کیوں رہا ؟

پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن اور اس کے لیڈروں نے بہت عروج دکھا ہے ۔ مسلم لیگ نون پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کو تین دفعہ ملک کا وزیراعظم رہنے کا اعزاز حاصل ہے اور مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کو تین وزیراعلی پنجاب کے عہدے پر فائز رہے ۔پھر حالات نے کروٹ بدلی اور پاکستان مسلم لیگ نون ہستہ ہستہ زوال کو شکار ہوتی گئی ۔آج کل پاکستان مسلم لیگ نو ن اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے ۔مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی ضمانت ہوتی ہے تو ن لیگ کے صدر شہباز شریف کو گرفتار کر لیا جاتا ہے ،شہباز شریف کو ضمانت ملتی ہے تو ان کے بیٹے حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے لیے نیب متحریک ہوجاتی ہے ۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحمزہ شہباز شریف کے خلاف نیب میں اس وقت تین مقدمات قائم ہیں جن کی تفصیل کچھ یو ں ہے ،صاف پانی کیس ،رمضان شوگر مل اور آمد ن سے زائد اثاثہ جات کیس نیب میں زیر سماعت ہیں ،جبکہ ان کے گرفتاری کے وارنٹس آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں جاری کیے گئے تھے ۔
جمعے کے روز پہلی دفعہ نیب حکام نے پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم کے ہمراہ حمزہ شہباز کی رہائش گاہ پر ان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا
لیکن حمزہ شہباز کے ذاتی سیکیورٹی گارڈز نے نیب کے حکام کو گھر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی جس پر نیب کے حکام اور حمزہ شہباز کے ذاتی گارڈز کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ اس واقعے سے متعلق حمزہ شہباز کے ذاتی سیکیورٹی گارڈز کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔تاہم نیب حکام حمزہ شہباز کو گرفتا رکرنے میں ناکام رہے ۔نیب کی ٹیم جمعے کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع حمزہ شہباز کے مکان پر پہنچی تو نیب ٹیم کے ارکان کو وہاں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
جبکہ دوسری طرف
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب کے ان کی رہائش گاہ پر ایکشن سے انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے کسی دہشت گرد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہو۔لاہور ہائی کورٹ کا واضح آرڈر ہے کہ نیب کو گرفتاری سے 10 روز قبل ملزم کو اطلاع دینا ضروری ہے مگر آج اس فیصلے کی دھجیاں اڑائی گئیں ہیں۔ نیب ٹیم سپر مین بن کر آئی تھی ان کا کہنا تھا کہ نیب نے شرمناک حرکت کی ہے اور اب کسی کی عزت محفوظ نہیں ہے۔مسلم لیگ نون کے صدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا ملزمان کو بغیر اجازت گرفتار کرنے کے حالیہ فیصلے میں ان کے بارے میں پہلے سے موجود لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا اور یہ ابھی بھی نافذ عمل ہے۔
ہفتے کے روز دوسری دفعہ قومی احتساب بیورو کے حکام پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے ماڈل ٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گاہ پہنچی تو مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے نیب حکام کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کردی ۔
ہفتے کے روز ان کی جب حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا گیا تو حمزہ شہباز گھر سے باہر ہی نہ نکلے، اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے نیب اہلکاروں کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کردی نوبت ہاتھاپائی تھی پہنچ گئی پولیس کو ن لیگ کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کرنا پڑا اور حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پنجاب رینجرر کو بھی ماڈل ٹاون میں طلب کرنا پڑ ا ۔
نیب ٹیم نے ہر حال میں حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کا اعلان کر رکھا تھا ۔ نیب ڈپٹی ڈائریکٹر نے گھر میں جانے کیلئے سیڑھیاں بھی منگوالی تھیں ، رات یہیں گزارنا پڑی تو گزاریں گے جیسے اعلانات بھی کر رکھے تھے لیکن پھر حمزہ شہباز شریف کے وکیل نے عبوری ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ہفتے کو عدالتی ہاف ہولی ڈے کو ہی دوخواست کو سماعت کے لیے موقعرر کر دیا ۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی جانب سے ایڈووکیٹ امجد پرویز نے دائر کی۔ درخواست میں ڈی جی نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب نے غیر قانونی طور پر چھاپہ مارا، اور لاہور ہائیکورٹ نیب کو گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کا کہہ چکی ہے اور ہائیکورٹ کے حکم بھی موجود ہے لیکن نیب نے احکامات ہر عمل درآمد نہیں کیا۔
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو پیر تک حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا اور کہا حمزہ شہباز کو 8 اپریل تک گرفتار نہ کیا جائے، حفاظتی ضمانت کی درخواست پر پیر کو سماعت ہوگی۔
پیر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بینج نے حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی اور قومی احتساب بیورو کو مزید 10 روز تک انھیں گرفتار نہ کرنے کے احکامات جاری کیے اور حمزہ شہباز کو ایک کروڑروپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم بھی دیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں